ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / بحیرہ روم میں ایک ڈرامائی دن، دو ہزار جانیں بچا لی گئیں

بحیرہ روم میں ایک ڈرامائی دن، دو ہزار جانیں بچا لی گئیں

Sat, 15 Apr 2017 18:55:23    S.O. News Service

روم،15اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایک اطالوی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ غیر سرکاری تنظیموں اور کوسٹ گارڈز کے انیس مختلف آپریشنز میں جمعہ چودہ اپریل کے روز مجموعی طور پر 2,074 مہاجرین کو بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔ ریسکیو کارروائیوں کے دوران سمندر کی طاقتور لہروں کے سبب مشکلات کی شکار ربڑ کی سولہ اور لکڑی کی تین مقابلتاً بڑی کشتیوں سے ان مہاجرین کو بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ اس دوران ایک کشتی ایک شخص کی لاش بھی برآمد ہوئی۔لیبیا سے سفر کرنے والے ایک افریقی پناہ گزین خاندان کو بحیرہ روم سے بچایا گیا، جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اس خاندان کی ایک حاملہ خاتون نے ریسکیو بوٹ میں ہی ایک بچے کو جنم دے دیا۔ 
بین الاقوامی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (MSF) نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ایک کشتی سے ایک نوجوان لڑکے کی لاش ملی۔ متعلقہ کشتی سے دیگر تارکین وطن کو بچانے کا کام اسی ادارے کی ایک کشتی ’ایکواریئس‘ کے عملے نے کیا۔ MSF نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے، ”سمندر مسلسل قبرستان بنا ہوا ہے۔“ اس تنظیم کے مطابق ان تازہ ریسکیو کارروائیوں میں اس ادارے کی دو کشتیوں ’ایکواریئس‘ اور ’پرْوڈَینس‘ نے حصہ لیا اور لگ بھگ ایک ہزار مہاجرین کی جانیں بچائیں۔
’مائیگرنٹ آف شور ایڈ اسٹیشن‘ (MOAS) نامی ایک امدادی تنظیم کے مطابق اس کی کشتی ’فِینِکس‘ جب سمندر میں مشکلات کی شکار ایک ربڑ کی کشتی تک پہنچی تو اس پر سوار مہاجرین اپنا توازن کھونے کے بعد پانی میں گر چکے تھے۔ انہیں بچانے کے لیے ریسکیو عملے کے کئی ارکان نے سمندر میں چھلانگیں لگا دیں۔ 
 


Share: